Maroof Peer
Lailahailallah
trp
e-Books ( Urdu )
Dil ki Namaz

افکارِ صوفیہ

صوفیہ کرام نے ہر دور میں اسلام کی جو خدمت کی ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ صوفیہ کرام نے ان پہلوؤں کو بھی کھولا ہے جو قرآن مجید اور حدیث شریف میں مخفی تھیں۔ جیسے کہ سرکارِ دو جہاں ﷺ نے فرمایا قرآن مجید کے لئے معنیٰ کے دو پہلو ہوتے ہیں ۔ ایک ظاہری معنیٰ اور ایک باطنی معنیٰ۔ پھر باطنی کے لئے اور ایک باطنی معنی پھر باطنی کے لئے اور ایک باطنی معنی۔ اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے ستّر ؍ ۷۰ معنی بیان فرمائے ہیں ۔
علماء خشک جن کی عقلیں ظاہری معنی کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ تو وہ باطنی معنی کو کیا سمجھیں گے۔
یہ علماءِ خشک جو چشم باطن سے کورے ہوتے ہیں ۔ جو بلا تحقیق و تصدیق صوفیہ کرام کو جن القاب سے نوازتے ہیں ۔ وہ اہلِ حق پر واضح ہے۔ یہ کتاب علماءِ خشک کی چشم کور کو دور کرنے کے لئے ڈراپ (دوا) کا کام کرے گی۔
بہر کیف اکثر لوگ لمبی ٹوپی پہننے والے لمبی زلفیں رکھنے والے اور لمبا جبّہ پہننے والوں کو صوفی سمجھتے ہیں ۔ اس طرح کی خیالی تصویر اپنے ذہن میں نقش کرلیتے ہیں ۔ مگر صوفی سراپا محبت کا نام ہے۔ صوفی کا مذہب محبت ہے ۔ صوفی کوٹ پینٹ

میں بھی ہوسکتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ صوفیہ کرام کے لِباسِ ظاہرہ میں بھی کچھ راز پوشیدہ ضرور ہے ۔ گویا یہ لباس ایک طریقہ کا امتحان بھی ہے کہ جو شخص صوفی بننا چاہتا ہے وہ کپڑے بدلنے کو تیار نہیں ہے۔ تو اپنی روحانیت کو کیا بدلے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ لمبی زلفیں لمبی ٹوپی اور لمبا جبّہ پہن کر صوفی اپنی مستی میں مست رہتا ہے۔ بلکہ اسے دنیا کی ہستی کی بھی خبر ہوتی ہے۔ اسی لئے میری نظر میں صوفی ایک سوپر سائنٹسٹ بھی ہوتا ہے۔ اس بات کو میں نے اپنی کتابوں سے بھی ثابت کیا ہے ۔ حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ جو اسلام کے بہترین صوفی ہیں ۔ جنہوں نے سب سے پہلے قوتِ جاذبہ (Gravity ) کے بارے میں لوگوں کو روشناس کیا ۔ مگر لوگ اس نظریہ کو نیوٹن کی کھوج کا نتیجہ سمجھتے ہیں ۔ جبکہ حضرت مولانا رومؒ کا زمانہ آج سے آٹھ صدی قبل کا ہے۔ اور نیوٹن کو چار سو سال ہی گزرے ہیں ۔ اہلِ عقل اپنے عقل کی روشنی میں خود فیصلہ کریں کہ قوت جاذبہ کا نظریہ کس کا ہے۔ اب ذرا ہمارے علماءِ خشک کا بھی تجزیہ کریں۔ جب حضرت مولانا رومؒ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ان نظریات کو پیش کیا تو آپ کی کتابیں جلائی گئیں۔ آپ کی شان میں گستاخی کی گئیں۔ حتیٰ کہ آپ پر کفر کے فتوے تک لگائے گئے۔ جب دہرئیے(Communist ) سائنٹسوں نے انہیں نظریات (Theories ) کو چرا کر غیر مذہبی بناکر جب دنیا کو پیش کیا تو لوگوں نے ان کو سر پر اٹھالیا۔ ان کے ناموں کو سنہرے حرفوں میں نقش کیا گیا۔ انہیں نوبل پرائز اور ناجانے کتنے

خطابوں سے نوازہ گیا۔ اسکولوں اور کالجوں میں ان کے نام کا سبق (Chapter ) تک ڈالا گیا۔ مگر کسی سائنس کی کتاب جو اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جاتی ہیں وہاں پر حضرت مولانا رومؒ کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ ایسا کیوں؟
ان علماء ظاہرہ چشم کو رہ کی وجہ سے یہ بات حضرت مولانا رومؒ کی حد تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ ایسے کئی صوفیہ کرام گزرے ہیں ۔ جو علماءِ خشک کے فتوؤں کے زد میں آکر انہیں اپنی جان تک گنوانا پڑا۔ مگر قربان جائیے ان صوفیہ کرام پر جو ہر حالت میں سرکار دو جہاں ﷺ کی تعلیمات کی روشنی ہر دور میں پہنچاتے رہے ہیں ۔ اور انشاء اللہ پہنچاتے رہیں گے۔
دورِ حاضر میں علماءِ خشک کے دو فتوے بنام صوفیہ کرام عائد ہیں ۔
فتویٰ اول : یہ صوفی بے نمازی ہوتے ہیں ۔
فتویٰ دوم : یہ صوفی دل کی نماز پڑھتے ہیں۔

جواب فتویٰ اول : -
شریعت مطہرہ کا حکم ہے کہ جو نماز نہ پڑھے وہ گنہگار ہے۔ اور جو نماز کا انکار کرے وہ کافر۔
الحمد للہ آج تک میری نظر سے کوئی ایسا صوفی نہیں گزرا جو نماز کا منکر ہو۔ ہاں! کوئی صوفی نما شیطان کا مرید ہوگا جو نماز کا منکر ہو۔ اس مسئلہ کا جواب بڑے

ہی اچھے انداز میں امام اہلِ سنت اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلویؒ کے پیر و مرشد حضرت سید آلِ رسول احمدی مارہرویؒ نے کتاب ’’شریعت و طریقت ترجمہ سراج العوارف فی الوصایا والمعارف‘‘ میں فرماتے ہیں ۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک روز میں ( یعنی حضرت سید شاہ ابوالحسن احمد نوریؒ ) نے اپنے پیر و مرشد (حضرت سید آلِ رسول احمدی مارہرویؒ )سے عرض کیا کہ حضور اس کا سبب کیا ہے کہ بعض پابندِ نماز فقراء یکا یک نماز چھوڑ دیتے ہیں اور ان سے اس بارے میں پوچھا جائے تو جواب میں یہ آیۂ کریمہ پڑھ دیتے ہیں ۔ وا عبد ربک حتی یاتیک الیقین ۔ ( ترجمہ : - اور اپنے رب کی عبادت کرو یہاں تک کہ تمہیں یقینِ کامل حاصل ہوجائے ۔) حضرت سید آلِ رسول احمدی مارہرویؒ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ ان کا یہ قول برائے بیت ( خانہ پری کیلئے) ہوتا ہے ۔ اور لوگوں سے اپنا دامن چھڑانے کے لئے یہ کہہ دیا کرتے ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ترکِ نماز کے گناہ سے بہت دور ہیں ۔ اور یوں بھی اہل ایمان کے ساتھ نیک گمان رکھنا چاہےئے ۔ جبکہ حقیقتہً ہماری نگاہوں میں ترک نماز کے وجوہ متعدد ہیں ۔ مثلاً کبھی انہیں استغراق حاصل ہوتا ہے کہ انہیں خود اپنے وجود کی خبر نہیں رہتی۔ ۔ اور کبھی جمال الٰہی کے مشاہدہ میں ایسے مدہوش ہوجاتے ہیں کہ ان سے قلم شریعت اٹھ جاتا ہے اور کبھی ایسے وارِ داتِ عجیبہ کا ان پر ورود ہوتا ہے کہ وہ دریائے حیرت میں غرق ہوجاتے ہیں ۔ اور کبھی تجلی

جلال کی وہ شدت ہوتی ہے کہ نماز پڑھنے پر انہیں قدرت ہی نہیں رہتی وعلی ہذا القیاس ۔ اور پھر فرمایا ( یعنی سید آلِ رسول احمدی مارہرویؒ نے ) کہ ایک روز سیدی ابوبکر شبلی قدس سرہ‘ بے حجابا نہ ( کسی روک ٹوک کے بغیر) اپنے شیخ گرامی حضرت سیدنا جنید بغدادیؒ کے مکان میں داخل ہوگئے اور ان کے سرہانے کھڑے کھڑے نعرے لگانا اور اشعار پڑھنا شروع کردیا۔ حضرت سامی کی پردہ نشین بی بیوں نے پردہ کرنا چاہا تو آپ نے ارشاد فرمایا اس کی ابھی حاجت نہیں کہ شبلی اس وقت عالمِ ہوش (حواس) میں نہیں ۔ کچھ دیر کے بعد حضرت شبلی اسی حالتِ بے خودی میں گر پڑے اور بہت دیر اسی حال میں رہے ۔ یہاں تک کہ حضرت جنید رضی اللہ عنہ‘ نے آپ کی حالت پر توجہ فرمائی اور انہیں اس عالم سکر و مدہوشی سے عالم صحو و ہو شیاری کی طرف واپس لائے ۔ حضرت شبلی نے رونا شروع کردیا۔ اس وقت حضرت جنید قدس سرہ نے پردہ نشین اہل خانہ سے فرمایا کہ تم لوگ پردہ میں چلے جاؤ کہ وہ اس عالم میں واپس آرہے ہیں ۔
غرض ان فقراء پر انقلاب احوال کی ایسی ہی واردات اور تجلیات کا بیش از بیش ورود رہتا ہے اور اس قسم کے احوال میں احکام شریعت کی بجا آوری ان سے ساقط ہوجاتی ہے ۔ جیسا کہ اسی حکایت میں گزرا کہ حضرت جنید نے اس وقت کسی پردے اور حجاب کی ضرورت نہ سمجھی۔
پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کی نگاہوں سے مخفی ہو کر تنہا نماز ادا کرلیتے

ہوں ۔ البتہ اس توجیہ میں ترکِ نماز با جماعت کا کانٹا دل میں کھٹکتا ہے کہ تنہا ادائیگی نماز میں جماعت چھوٹتی ہے اور یہ بھی فقراء کہ حق میں سخت نازیبا حرکت ہے کہ اس صورت میں سنت موکدہ بلکہ علماء کے نزدیک واجب کا ترک لازم آتا ہے ۔ لہٰذا وہی پہلی تاویلات اقرب اِلی الصواب ہیں ۔ میں ( یعنی سید ابو الحسن نوریؒ نے ) پھر عرض کیا کہ یہ استغراق و تحیّر صرف اوقاتِ نماز میں ہوتا ہے ۔ باقی امور میں نہیں ہوتا ۔ مثلاً کھانے پینے وغیرہ میں نہیں ہوتا ۔ تو ارشاد فرمایا ( سید آلِ رسول احمدی مارہرویؒ ) نے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مجنون کس طرح کھاتے پیتے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ نماز کے لئے عقل و شعور اور تو مجنونوں کے لئے ان کے کھانے پینے کے باوجود امور شرعیہ میں قلم جاری نہیں ۔ ایسا ہی یہاں سمجھنا چاہےئے ۔ واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب ۔
بہرِ حال ان کے حق میں نیک گمان رہنا چاہئے ۔ ان پر اعتراض نہ کرنا چاہئے ۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ مکہ معظمہ میں نماز با جماعت ادا کرتے ہوں ۔ اس لئے کہ انہیں ارض یعنی زمینی مسافت طئے کرنے کی قوت حاصل ہو ۔ اور مسجدِ حرام میں فضیلت نماز ( کی دولت ) حاصل چاہئے ہوں کہ وہاں کی ایک رکعت دوسری جگہ کی ہزار رکعتوں کے برابر ثواب رکھتی ہے ۔
اور اگر تم یہ کہو کہ اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ وہ اوقات نماز میں از اول تا آخر وقت یہیں موجود رہے ۔ ایک لمحہ کے لئے بھی غائب نہ ہوئے تو وہاں کیسے

trp